Book - حدیث 1579

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ حسن حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأْخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا تَجْمَعَ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا تُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهُ حِينَ تَرِدُ الْغَنَمُ فَيَقُولُ أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْكَوْمَاءُ قَالَ عَظِيمَةُ السَّنَامِ قَالَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي قَالَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا وَقَالَ إِنِّي آخِذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَا يُفَرَّقُ

ترجمہ Book - حدیث 1579

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: جنگل میں چرنے والے جانوروں کی زکوٰۃ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ میں ( نبی کریم ﷺ کے عامل کے ساتھ ) چلا ، یا کہا کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جو نبی کریم ﷺ کے عامل کے ساتھ رہا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد ( تحریر ) میں یہ تھا ” زکوٰۃ میں کوئی دودھ والا جانور ( بکری وغیرہ ) یا دودھ پیتا بچہ نہ لینا ، جدا جدا جانوروں کو جمع نہ کرنا اور نہ اکٹھے ( رہنے ، چرنے والوں ) کو جدا جدا کرنا ۔ “ اور آپ ﷺ کا تحصیلدار زکوٰۃ ان کے پانیوں ( چشموں ، کنوؤں یا تالابوں ) پر پہنچتا تھا ، جب بکریاں پانی پینے کے لیے آتی تھیں ، تو وہ ( مالکوں سے ) کہتا تھا اپنے مالوں کی زکوٰۃ پیش کرو ۔ راوی نے بیان کیا چنانچہ ایک شخص نے «كوماء» اونٹنی کا قصد کیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابوصالح ! «كوماء» کا کیا معنی ہے ؟ کہا بڑے کوہان والی ، تو عامل نے لینے سے انکار کر دیا ( کیونکہ وہ بہت عمدہ تھی ) مال والے نے کہا میں پسند کرتا ہوں کہ آپ میری بہترین اونٹنی وصول کریں مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا ۔ تو وہ دوسری پکڑ لایا جو اس سے ذرا کم درجے کی تھی ۔ تو اس نے وہ بھی لینے سے انکار کر دیا ۔ چنانچہ وہ ایک اور لے آیا جو اس سے بھی کم درجے کی تھی تو اس نے وہ لے لی اور کہنے لگا میں یہ لے تو رہا ہوں مگر اندیشہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھ پر خفا ہوں گے ۔ آپ ﷺ مجھے کہیں گے کہ تم اس آدمی کی بہترین اونٹنی لے آئے ہو ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی کی مانند روایت کیا مگر لفظ «لا يفرق» استعمال کیا ۔ (1)زکوۃ میں نفیس مال لینے سےمنع کیا گیا ہے مگر یہ دین واخلاص ہی تھا کہ لوگ شاندار مال پیش کرتے تھے مگر عاملین قیول نہ کرتے تھے۔ٹیکس میں یہ برکت کہاں؟ (2) زکوۃ وصول کرنے کے لیے عامل کو لوگوں کے ڈیروں پر پہنچنا چاہیے ‘ نہ کہ انہیں اپنے مراکز و دفاتر کے طواف کرائے جائیں ۔