Book - حدیث 1555

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ فِي الِاسْتِعَاذَةِ ضعیف حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ أَخْبَرَنَا غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَامَةَ مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ قَالَ هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي

ترجمہ Book - حدیث 1555

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: تعوذات کا بیان سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز مسجد میں تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ہے جس کا نام ابو امامہ تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا ” اے ابوامامہ ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مسجد میں دیکھ رہا ہوں اور نماز کا وقت بھی نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں ، اگر تم انہیں پڑھنے لگو ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے غم دور کر دے گا اور تمہارے قرضے ادا کر دے گا ۔ “ ( ادا کرنے کا سبب پیدا فر دے گا ۔ ) میں نے کہا ، کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! فرمایا ” صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرو « اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، وأعوذ بك من العجز والكسل ، وأعوذ بك من الجبن والبخل ، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال» اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے ، عاجز رہ جانے اور کسل مندی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اور بخیلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قرضے اور ظالموں کے غلبے سے ۔ “ سیدنا ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ دعا کرنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے میری پریشانیاں دور کر دیں اور قرضوں ( کی ادائیگی ) کا سبب بھی پیدا فر دیا ۔ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر اس کے معانی دیگر مختلف دعاؤں میں صحیح اسانید سے ثابت ہیں ۔