Book - حدیث 1548

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ فِي الِاسْتِعَاذَةِ صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ

ترجمہ Book - حدیث 1548

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: تعوذات کا بیان عباد بن ابی سعید سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الأربع : من علم لا ينفع ، ومن قلب لا يخشع ، ومن نفس لا تشبع ، ومن دعاء لا يسمع» ” اے اللہ ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، ایسا علم جو فائدہ نہ دے ، ایسا دل جس میں خشوع نہ ہو ، ( تیرے سامنے جھکتا نہ ہو ) ایسی طبیعت جو سیر نہ ہوتی ہو اور ایسی دعا جو قبول نہ ہو ۔ “ اس دعا میں ایسے علوم جو دین و دنیا کے فوائد سے خالی بلکہ وقت اور صلاحیت ضائع کرنے والے ہوں ‘ ان سے اللہ کی پناہ طلب کی گئی ہے ۔گل وبلبل کی داستانیں اور کاکل و کمر کے افسانے اسی کا حصہ ہیں ۔ دین کا بنیادی علم فرائض اور واجبات کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ‘مزید اللہ کافضل ہے ‘ حسب صلاحیت کوشش کرنی چاہیے ۔ دنیاوی علوم جوفرد اورمعاشرےکی اہم ضرورت ہیں‘ ان کا حصول درست ہے ۔