Book - حدیث 1540

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ فِي الِاسْتِعَاذَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ<.

ترجمہ Book - حدیث 1540

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: تعوذات کا بیان سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من العجز ، والكسل ، والجبن ، والبخل ، والهرم ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجز آ جانے سے ، کسل مندی و سستی سے ، بزدلی ، بخیلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے ۔ “ دین و دنیا کی بھلائیوں کے حصول میں محرومی تین اسباب سے ہوتی ہے کہ انسان میں ان کے کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ‘یاسستی غالب آ جاتی ہے ‘ یا جرات کا فقدان ہوتا ہے ۔[بخل ] سےمراد وہ کیفیت ہے کہ جہاں خرچ کرنا مشروع و مستحب ہو ‘ لیکن انسان وہاں خرچ نہ کرے ۔[ھرم ]بڑی عمر ہونے کی یہ حالت کہ انسان دوسروں پر بوجھ بن جائے ۔نہ عبادت کر سکے اور نہ دنیا کا کام ۔’’زندگی کے فتنے ‘‘یہ کہ آزمائشیں اورپریشانیاں غالب آ جائیں ‘ نیکی کا کاموں سے محروم رہے ۔’’موت کا فتنہ ‘‘یہ کہ انسان اعمال خیر سے محروم رہ جائے یا مرتے دم کلمہ توحید نصیب نہ ہو ۔ اور ’’قبر ‘‘آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے اس میں بندہ اگر پھسل یا پھنس گیا تو بہت بڑی ہلاکت ہے اور ’’عذاب قبر ‘‘ سے تعوذ ‘امت کے لیے تعلیم ہے ورنہ انبیائے کرام علیہم السلام اس سے محفوظ ہیں ۔