Book - حدیث 154

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ حسن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ أَنَّ جَرِيرًا بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ قَالُوا إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ قَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ

ترجمہ Book - حدیث 154

کتاب: طہارت کے مسائل باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان سیدنا جریر ؓ نے ( ایک بار ) پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور کہا : میرے لیے مسح سے کیا چیز مانع ہے ؟ جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ مسح کا حکم سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے ۔ تو سیدنا جریر ؓ نے کیا : میں تو اسلام ہی سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد لایا ہوں ۔ فوائد ومسائل: (1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ سن دس ہجری کے شروع میں مسلمان ہوئے ہیں اور آیت وضو ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ﴾ سورۂ مائدہ کی چھٹی آیت ہے۔ اس میں سر کے مسح کا ذکر ہے موزوں کا نہیں بلکہ پاؤں دھونے کاحکم ہے۔ تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ موزوں پر مسح کرنا منسوخ ہے۔ جریر رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ میں اس سورت کے نزول کے بعد اسلام لایا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے اور موزوں پر مسح کرتے خود دیکھا ہے لہٰذا یہ عمل بلاشبہ صحیح ، جائز اور مسنون ہے۔ منسوخ سمجھنا درست نہیں۔ شیعہ اور خوارج کے علاوہ اور کوئی اس کا منکر نہیں ہے۔ (2) صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک یہ اصول اٹل تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے مفسر اور مبین ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشادہے: ﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾ ’’ اور ہم نے تمہاری طرف یہ ذکر اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو جوان کی طرف نازل کیا گيا ہے بالوضاحت بیان کردیں۔‘‘