Book - حدیث 1534

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ الدُّعَاءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ صحیح حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ

ترجمہ Book - حدیث 1534

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: غائبانہ دعا کی فضیلت سیدہ ام الدرداء ؓا بیان کرتی ہیں کہ میرے آقا سیدنا ابوالدرداء ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” جب کوئی شخص اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں ” آمین “ ( اے اللہ ! قبول فر ) اور تجھے بھی یہ کچھ حاصل ہو ۔ “ 1۔حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو بیویاں تھیں۔ اور دونوں کی کنیت ام درداء تھی۔بڑی صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں ان کا نام خیرہ ہے اور جن کا اس سند میں زکر ہے۔وہ تابعیہ ہیں ان کا نام ہجمیہ یا جہیمہ یا جمانہ وارد ہے۔رحمہا اللہ تعالیٰ۔2۔اس میں ترغیب ہے کہ انسان اپنے قریبی اور بعیدی تمام عزیزوں کو بلکہ عام مسلمانوں کی بھی اپنی دعائوں میں شامل رکھا کرے تاکہ فرشتے اس کے لئے دُعا کریں۔اور فرشتوں کی دُعا (ان شاء اللہ)قبولیت کے لئے زیادہ مدد گار ہوگی۔