Book - حدیث 152

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ صحیح حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ قَالَ فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّ بِهِمْ الصُّبْحَ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ قَالَ فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا قَالَ أَبُو دَاوُد أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ عُمَرَ يَقُولُونَ مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنْ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ

ترجمہ Book - حدیث 152

کتاب: طہارت کے مسائل باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ قافلے کے ساتھیوں سے پیچھے ہو گئے اور مذکورہ بالا قصہ بیان کیا ۔ اس میں ہے کہ پھر ہم لوگوں کے پاس آئے تو دیکھا کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف ؓ انہیں نماز فجر پڑھا رہے ہیں ۔ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا مگر آپ نے ان کو اشارہ فرمایا کہ جاری رہیں ۔ چنانچہ میں نے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے پیچھے ایک ایک رکعت پڑھی ۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور فوت شدہ رکعت پڑھی اور اس پر کوئی اور اضافہ نہیں کیا ( یعنی سجدہ سہو نہیں کیا ) ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری ، ابن زبیر اور ابن عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ جسے نماز کی ایک رکعت ملی ہو تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۔ فائدہ: جس شخص کی جماعت سے کوئی رکعت یا رکعات رہ گئی ہوں وہ صرف فوت شدہ رکعات ہی دہرائے، اس پر کوئی سجدہ سہو وغیرہ نہیں ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحابہ کی طرف منسوب اس قول کو ضعیف کہا ہے کہ جو جماعت کے ساتھ صرف ایک رکعت پائے، تو وہ بقیہ رکعتین پوری کرنے کے بعد سجدۂ سہو بھی کرے، ایسے حضرات کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ مسبوق شخص امام کے ساتھ تشہد بیٹھتا ہے جب کہ ابھی اس کی صرف ایک رکعت ہی ہوئی ہوتی ہے۔ یعنی ابھی وہ تشہد بیٹھنے کی حالت کو نہیں پہنچا ہوتا، لیکن اسے امام کے ساتھ تشہد بیٹھنا پڑ جاتا ہے۔لیکن یہ مسلک صحیح نہیں ہے،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایسے نہیں کیا۔ علاوہ ازیں اسے تشہد میں امام کی متابعت کی وجہ سے بیٹھنا پڑتا ہے نہ کہ سہو کی وجہ ہے۔