Book - حدیث 1515

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ فِي الِاسْتِغْفَارِ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ

ترجمہ Book - حدیث 1515

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: استغفار کا بیان سیدنا اغر مزنی ؓ سے مروی ہے ، مسدد کی روایت میں ہے کہ ان کو شرف صحبت حاصل تھا ، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے دل پر بھی پردہ سا آ جاتا ہے اور میں اللہ سے ایک ایک دن میں سو سو بار استغفار کرتا ہوں ۔ “ رسول اللہ ﷺ فداہ امی و ابی۔کے شب وروز اللہ کی اطاعت میں گُزرتے تھے۔اور ان میں کوئی لمحہ غفلت کا نہ ہوتا تھا۔نیز آپ ﷺ دل مبارک ان عوارض سے پاک صاف اور بالا تر تھا۔جو عام انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔اور اس کے باوجود آپﷺکا یہ فرمانا کہ میرے دل پر پردہ سا آجاتا ہے۔ اس کی تفصیل ہمارے لئے مشکل ہے۔اس لئے امام لغت اصمعی نے کہا ہے کہ اگر غیر نبی کے دل کی بات ہوتی۔تو میں اس پر بات کرتا۔ علامہ سندھی بھی تفویض کو ترجیح دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ بطورافہام تفہیم کے بات اس قدر ہے۔ کہ آپ کی حالت اس طرح کی ہوجاتی تھی۔ کہ آپ اس پر استغفار فرماتے ۔(عون المعبود)جب رسول اللہ ﷺ رسول ہوتے ہوئے بھی استغفار فرماتے تھے تو عام انسانوں کی حالت کیا ہونی چاہیے۔