Book - حدیث 1501

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى حسن حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ عَنْ يُسَيْرَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ

ترجمہ Book - حدیث 1501

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: ( شمار کی غرض سے ) کنکریوں پر تسبیح پڑھنا سیدہ یسیرہ ؓا نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ( صحابیات کو ) حکم دیا تھا کہ وہ اللہ کی تکبیر «الله اكبر» تقدیس «سبحان الملک القدوس» اور تہلیل «لا إله إلا الله» کی پابندی اختیار کریں اور یہ کہ اپنی انگلیوں پر شمار کیا کریں کیونکہ ان سے سوال ہو گا اور یہ بلوائی جائیں گی ۔ روز قیامت جسم کے اعضاء بلوائے جایئں گے۔اور شہادت دیں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ)(المائدۃ۔3) آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے۔ اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے۔اور ان کے پائوں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔ اور سورۃ نور میں ہے۔( يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)(النور ۔24) اس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے خلاف گواہی دیں گے جو یہ عمل کرتے رہے۔