Book - حدیث 1460

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ مَا جَاءَ فِي آيَةِ الْكُرْسِيِّ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ لِيَهْنَ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ

ترجمہ Book - حدیث 1460

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: آیت الکرسی کی فضیلت سیدنا ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : ” اے ابو منذر ! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا اے ابو منذر ! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے جو سب سے اعظم ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» اس پر آپ ﷺ نے میرے سینے میں مارا اور فرمایا ” اے ابو منذر ! تمہیں علم مبارک ہو ۔ “ 1۔یہ حدیث آیۃ الکرسی کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔2۔آیۃ الکرسی دیگر عام آیات کی نسبت سے لمبی ہونے کے ساتھ ساتھ معانی فضیلت وثواب کے لہاظ سے بہت بڑی ہے۔کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی صفات پر مشتمل ہے۔3۔ علم اللہ تعالیٰ کی خاص دین ہے۔جسے وہ عنایت فرمادے۔اور بالخصوص قرآن وسنت کا علم ۔4۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے۔اس کو موت کے علاوہ کوئی چیز جنت میں جانے سے مانع نہیں ہے۔ (السنن الکبریٰ للنسائی۔عمل الیوم واللیۃ حدیث 9928)5۔یہ حدیث تعظیم رسولﷺ پر بھی دلالت کرتی ہے۔6۔اس سےقرآن مقدس کے بعض حصے کی بعض پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔7۔دینی مصلحت کی بناء پر کسی شخص کی منہ پر مدح سرائی جائز ہے۔جب کہ اس کے خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔واللہ اعلم