Book - حدیث 1422

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابٌ كَمْ الْوِتْرُ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ

ترجمہ Book - حدیث 1422

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: وتر میں کتنی رکعات ہیں سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” وتر نماز ہر مسلمان پر حق ہے ، چنانچہ جو پانچ پڑھنا چاہے ، ( پانچ ) پڑھ لے ۔ اور جو تین پڑھنا چاہے ، ( تین) پڑھ لے ۔ اور جو ایک پڑھنا چاہے ، وہ ایک پڑھ لے ۔ “ مذکورہ بالا روایات میں وتر کی تعداد ایک ’تین‘ پانچ کا ذکر ہے ، جبکہ صحیح مسلم ، سنن ابن ماجہ اور سنن النسائی میں سات ، نو اور گیارہ رکعت کا ذکر بھی ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیں (صحيح مسلم صلاة المسافرين حديث 736-737-738 وسنن النسائي قيام الليل حديث 1697-1698 -1705-1707-1710 وسنن ابن ماجه اقامة الصلوات حديث 1190-1191-1192) ہمارے ہاں اکثر لوگ تین وتر پڑھتے ہیں اور وہ بھی سنت کے خلاف اور ایک رکعت وتر کو صحیح نہیں سمجھتے اور ایک وتر پڑھنے والے کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے ، حالانکہ ایک رکعت وتر حدیث رسول سے ثابت ہے ۔ تین رکعت وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت وتر الگ پڑھا جائے ۔ دیکھیے (سنن ابن ماجہ حدیث : 1177) تاہم ایک سلام کے ساتھ درمیان میں تشہد کیے بغیر بھی جائز ہے ۔ درمیان میں تشہد بیٹھنے سے نماز مغرب سے مشابہت ہو جاتی ہے اور نبی کریمﷺ نے نماز مغرب کی مشابہت سے منع فرمایا ہے ۔ دیکھیے: (سنن الدار قطنی :2؍27،25 وصحیح ابن حبان ، حدیث :280)