Book - حدیث 1416

كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوِتْرِ صحیح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ

ترجمہ Book - حدیث 1416

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: وتر کے استحباب کا بیان سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اے قرآن والو ! وتر پڑھا کرو ۔ بلاشبہ اللہ عزوجل وتر ( اکیلا ) ہے ، وتر کو پسند کرتا ہے ۔ “ (1) وتر کا اطلاق دو معانی پر ہوتا ہے ۔ ایک نماز وتر جس کی تعداد ایک ، تین اور پانچ ، ہے ۔ یہ نماز اگرچہ نفل ہے مگر از حد اہم اور تاکیدی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سفر میں بھی اس کا التزام فرمایا کرتے تھے ۔ اس بنا پر بعض ائمہ اسے ’’ واجب‘‘ کہتے ہیں ۔ اور دوسرا معنی ’’ قیام اللیل اور تہجد‘‘ ہے ۔ چونکہ وتر کا اصل وقت اومر موقع یہی ہے ۔ اس لیے اسے ’’ وتر‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ مذکورہ بالا حدیث میں یہی دوسرا مفہوم متبادر ہے ۔ روایت میں اس کا اشارہ موجود ہے ۔(2) یہ ارشاد ’’ اہل اقرآن ‘‘ کو ہے اور تمام ہی مسلمان ’’ اہل قرآن‘‘ ہیں مگر حفاظ اور علماء اس کے بالخصوص مخاطب ہیں۔