Book - حدیث 1379

كِتَابُ تَفرِيع أَبوَاب شَهرِ رَمضَان بَابُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ حسن صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ فَقَالُوا مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْتُ فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ فَمَرَّ بِي فَقَالَ ادْخُلْ فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ نَاوِلْنِي نَعْلِي فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَقَالَ كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً قُلْتُ أَجَلْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ كَمْ اللَّيْلَةُ فَقُلْتُ اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ قَالَ هِيَ اللَّيْلَةُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ أَوْ الْقَابِلَةُ يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

ترجمہ Book - حدیث 1379

کتاب: ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل باب: لیلۃالقدر کے احکام و مسائل ضمرہ بن عبداللہ بن انیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں بنی سلمہ کی ایک مجلس میں تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا ، انہوں نے کہا : کون ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ہمارے لیے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھ آئے ؟ اور یہ رمضان کی اکیسویں تاریخ کی صبح تھی ۔ پس میں نکلا اور مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی ۔ پھر میں آپ ﷺ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ۔ آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا ” اندر آ جاؤ ۔ “ میں اندر چلا گیا ، آپ کو عشائیہ پیش کیا گیا ۔ مجھے یاد ہے کہ میں کھانا کم ہونے کی وجہ سے جھجھک رہا تھا ( یعنی بہت کم کھا رہا تھا ۔ ) جب فارغ ہو گئے تو فرمایا ، ” مجھے میرے جوتے دو ۔ “ چنانچہ آپ کھڑے ہو گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” شاید تم کسی کام سے آئے تھے ؟ “ میں نے عرض کیا ہاں ! مجھے بنی سلمہ کی ایک جماعت نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے وہ لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ” آج کون سی رات ہے ؟ میں نے کہا : ” آج بائیسویں ہے “ آپ نے فرمایا ” یہی رات ہے ۔ “ پھر آپ نے اپنی بات دہرائی اور فرمایا ” اگلی رات ہے ۔ “ یعنی تئیسویں رات ۔ 1۔بایئسویں کی رات اس اعتبار سے لیلۃ القدر ہوسکتی ہے۔ لیلۃ القدرہوسکتی ہے۔جیسا کہ آئندہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1381) میں ہے کہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔آخری نویں ۔ساتویں۔اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ لہذا اگر مہینہ تیس راتوں کا ہوتو آخری نویں رات بایئسیویں تاریخ بنتی ہے۔واللہ اعلم۔2۔استاد۔معلم ومربی سے مسائل دریافت کرنے کا ادب۔