Book - حدیث 137

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ حسن لكن مسح القدم شاذ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَتُحِبُّونَ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَاغْتَرَفَ غَرْفَةً بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَجَمَعَ بِهَا يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ نَفَضَ يَدَهُ ثُمَّ مَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى مِنْ الْمَاءِ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدَيْهِ يَدٍ فَوْقَ الْقَدَمِ وَيَدٍ تَحْتَ النَّعْلِ ثُمَّ صَنَعَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ

ترجمہ Book - حدیث 137

کتاب: طہارت کے مسائل باب: دو دو بار اعضائے وضو دھونا جناب عطاء بن یسار نے بیان کیا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کیا کرتے تھے ؟ چنانچہ آپ نے برتن منگوایا ، اس میں پانی تھا ۔ تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے چلو لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۔ پھر دوسرا ( چلو ) لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو جمع کر لیا اور اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر اور چلو لیا اور اپنا دایاں بازو دھویا ، پھر اور چلو لیا اور اپنا بایاں بازو دھویا ۔ پھر ایک مٹھی میں پانی لیا اور اپنے ہاتھ کو جھاڑا اور اس سے سر اور کانوں کا مسح کیا ۔ پھر مٹھی میں اور پانی لیا اور اسے اپنے دائیں پاؤں پر چھڑکا جبکہ اس میں جوتا بھی تھا ، اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے ملا ، ( اس طرح گویا کہ ان کو دھویا ) ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر سے اور ایک ہاتھ جوتے کے نیچے سے اور پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسے ہی کیا ۔ اس روایت میں پیروں پرپانی چھڑک کران پر ہاتھوں سےمسح کرنے کاذکر ہے، تویہ دوسری روایات کےمخالف نہیں، کیونکہ پھر آپ نےہاتھوں سےانہیں اس طرح ملا، جیسے دھونے میں کیا جاتا ہے،اس طرح اس میں ( غَسل ) (دھونے) کامفہوم آجاتا ہے۔صحیح بخاری کی روایت سے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے، اس میں ہے ’’ آپ نےایک چلو پانی لیا اور اسے دائیں پاؤں پرچھڑکا ، یہاں تک کہ اسے دھویا ،،۔( صحیح بخاری، حدیث : 140۔عون المعبود ) البتہ اس میں آخری حصہ ، جس میں پاؤں کے اوپر نیچے مسح کرنے کا ذکر ہے،شیخ البانی کے نزدیک شاذہے۔