Book - حدیث 1322

كِتَابُ التَّطَوُّعِ بَابُ وَقْتِ قِيَامِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ اللَّيْلِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ,فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:{كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ}[الذاريات: 17]، قَالَ: كَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى وَكَذَلِكَ: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ}[السجدة: 16].

ترجمہ Book - حدیث 1322

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل باب: نبی کریم ﷺ رات کو کس وقت اٹھتے تھے؟ سیدنا انس بن مالک ؓ نے آیت کریمہ«كانوا قليلا من الليل يهجعون» ” یہ لوگ رات میں بہت کم سوتے تھے ۔ “ کی تفسیر میں فرمایا کہ صحابہ کرام ؓم مغرب اور عشاء کے مابین نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آیت کریمہ «تجافى جنوبهم» سے بھی یہی مراد ہے ۔ فائدہ: مذکورہ آیات میں قیام اللیل کی ترغیب ہے اور اس کےوقت میں توسیع ہے ۔ اگر کوئی شخص مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل پڑھے جیسا کہ صحابہ سے منقول ہے تو یہ بھی قیام اللیل میں شامل ہے۔ ترجیح اور افضلیت رات کے آخری حصے کو ہے۔