Book - حدیث 1245

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً ثُمَّ يَجِيءُ الْآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً ضعیف حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ, قَالَ: فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى، عَنْ خُصَيْفٍ وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ، رَكْعَةً ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً. قَالَ أَبو دَاود: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ، فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ.

ترجمہ Book - حدیث 1245

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: ( ایک اور کیفیت ) امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے ، تو جو لوگ اس کے پیچھے ہوں وہ کھڑے ہو کر اپنی ( دوسری ) رکعت پڑھ لیں ، پھر دوسرے لوگ ان کی جگہ پر آ جائیں اور اپنی ایک رکعت پڑھ لیں جناب خصیف نے اپنی سند سے اس کے ہم معنی بیان کیا اس روایت میں ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے تکبیر کہی تو دونوں صفوں نے ان کے ساتھ مل کر تکبیر کہی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ثوری نے بھی خصیف سے اسی کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ نے بھی ایسے ہی پڑھائی تھی ‘ سوائے اس کے کہ جس گروہ نے اخیر میں ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھی ‘ وہ امام کے سلام کے بعد دشمن کے سامنے چلے گئے ۔ پھر پہلا گروہ آیا اور اس نے اپنے طور پر ایک رکعت پڑھی ( جو باقی تھی ) پھر یہ دوسرے گروہ کی جگہ پر لوٹ گئے ‘ بعد ازاں دوسرا گروہ آیا اور اس نے ایک رکعت پڑھی ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : ہمیں یہ مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ہمیں عبدالصمد بن حبیب نے بیان کیا ‘ وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا اور انہوں نے ہم کو نماز خوف پڑھائی ۔ اس باب کی دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔اس لئے ان میں بیان کردہ صورتیں غیر مستند ہیں۔