Book - حدیث 1235

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ إِذَا أَقَامَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ يَقْصُرُ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا,يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ أَبو دَاود: غَيْرُ مَعْمَرٍ يُرْسِلُهُ لَا يُسْنِدُهُ.

ترجمہ Book - حدیث 1235

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: دشمن کے علاقے میں ٹھہرے ، تو قصر کرے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ تبوک میں بیس دن ٹھہرے اور نماز قصر کرتے رہے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ صرف معمر ہی نے اسے مسند بیان کیا ہے ۔ ( دوسرے مرسل بیان کرتے ہیں ۔ ) مجاہدین جب سرحدوں پر حالت جنگ میں ہوں یا اس کا خطرہ ہو تو قصر نماز پڑھیں۔۔۔اس کی مدت خواہ کتنی ہی طویل ہو۔لیکن جب سرحدوں پر حالت جنگ نہ ہو نہ دشمنوں کی طرف سے حالت جنگ کا اندیشہ ہی ہو تو پھر سرحد پرمتعین فوجیوں اور مجاہدوں کے لئے مستقل طور پر قصر کرتے رہنا صحیح نہیں ہے۔