Book - حدیث 1232

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ مَتَى يُتِمُّ الْمُسَافِرُ ضعیف منکر حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

ترجمہ Book - حدیث 1232

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر کتنے دن تک قصر کرے سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں سترہ دن ٹھہرے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے ۔ یہ روایت بھی بعض محققین کے نزدیک ضعیف منکر ہے۔اور صحیح 19 دن ہی ہے۔جن کے نزدیک یہ روایات صحیح ہیں۔ ان میں سفر مکہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کی مکہ میں امامت انیس دن۔اٹھارہ دن۔ سترہ دن اور پندرہ دن مروی ہے۔ تو اس عدد میں اختلاف کو امام بہقی نے یوں حل فرمایا ہے کہ جس راوی نے آپ کی آمد اور روانگی کے دن شمار کئے اس نے انیس دن بتائے ہیں۔ اور جس نے ان کو خارج کردیا۔اس نے سترہ کہے۔اور جس نے آمد اور روانگی میں کوئی ایک دن شمار کیا۔ اس نے اٹھارہ دن کہے۔ اور جس نے پندرہ دن کہے اس کے خیال میں اصل اقامت مع ایام آمد ورفت سترہ دن ہوگی۔اور پھر اس نے آمد وروانگی کے دودن چھوڑ دیے تو پندرہ دن ہوئے۔انتہیٰ ملخصہ)خیال رہے کہ نبی کریمﷺ کا یہ سفرسفرجہاد تھا۔اور مجاہدین ی اقامت کہیں بھی بالجزم نہیں ہوا کرتی۔اس لئے سفر جہاد میں کسی جگہ اقامت کو حالت امن کے عام سفر میں اقامت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس بناء پر ہمارے مشائخ کا فتویٰ یہی ہے۔کہ عام سفر میں تین یا چار دن کی اقامت تک قصر اور اس سے زیادہ میں اتمام ہے۔جیسے کہ امام شافعی کافتویٰ ہے۔اور یہی راحج ہے۔واللہ اعلم۔