Book - حدیث 1217

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: قَالَ رَبِيعَةُ يَعْنِي كَتَبَ إِلَيْهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: غَابَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى قُلْنَا: الصَّلَاةُ! فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، ثُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلَاتِي هَذِهِ، يَقُولُ: يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سَالِمٍ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ بَعْدَ غُيُوبِ الشَّفَقِ.

ترجمہ Book - حدیث 1217

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان جناب عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج غروب ہو گیا جبکہ میں سیدنا ابن عمر ؓ کے پاس تھا ۔ ہم چلتے رہے ، جب ہم نے دیکھا کہ خوب شام ہو گئی ہے تو ہم نے عرض کیا ، نماز ؟ مگر وہ چلتے رہے ، حتیٰ کہ شفق غائب ہو گئی اور ستارے نکل آئے تو وہ اترے اور دونوں نمازیں اکٹھی کر کے پڑھیں ۔ پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو نمازیں میری اسی نماز کی طرح پڑھتے تھے ۔ یعنی اندھیرا چھا جانے کے بعد دونوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس کو عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے ، انہوں نے سالم سے روایت کیا ہے ۔ اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذوئیب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ کا ان نمازوں کو جمع کرنا غروب شفق کے بعد تھا ۔ مذکورہ آثار دلیل ہیں۔کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل (جمع بین الصلواتین)غیوب شفق کے بعد تھا۔بخلاف اس کے کہ جو پیچھے (روایت1212 میں) غیوب شفق سے قبل نمازوں کو جمع کرنا ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ جو صحیح نہیں ہے جیسا کہ وہاں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔