Book - حدیث 1205

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ الْمُسَافِرِ يُصَلِّي وَهُوَ يَشُكُّ فِي الْوَقْتِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا,لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

ترجمہ Book - حدیث 1205

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر کو نماز کے وقت شک ہو اور وہ ( امام کے ساتھ ) نماز پڑھ لے تو ؟ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو اس وقت تک کوچ نہ کرتے جب تک کہ ظہر کی نماز نہ پڑھ لیتے ۔ ایک شخص نے ان سے کہا : اگرچہ نصف النہار ہی ہوتا ؟ انہوں نے کہا کہ ( ہاں ! ) اگرچہ نصف النہار ہی ہوتا ۔ یہ اس صورت میں ہوتا جب ذوال سے پہلے کوچ نہ کیا ہوتا۔اگر زوال سے پہلے ہی سفر میں چل پڑتے۔تو ظہر کو موخر کر کے عصر کے ساتھ اکھٹا کر کے پڑھتے تھے۔علاوہ ازیں اس حدیث کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ نصف النہار (ذوال)سے قبل ہی نبی کریمﷺ ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذوال کے ہوتے ہی فورا ظہر کی نماز ادا کرلیتے اور پھر سفرشروع کرتے کیونکہ ذوال سے قبل تو ظہر کا وقت ہی نہیں ہوتا۔