Book - حدیث 1204

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ الْمُسَافِرِ يُصَلِّي وَهُوَ يَشُكُّ فِي الْوَقْتِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ، أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ.

ترجمہ Book - حدیث 1204

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر کو نماز کے وقت شک ہو اور وہ ( امام کے ساتھ ) نماز پڑھ لے تو ؟ مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک ؓ سے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو سنا ہے بیان کیجئے ! تو انہوں نے کہا : ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوا کرتے تو آپ ﷺ ظہر کی نماز پڑھتے ، پھر کوچ کرتے حالانکہ ہمیں شبہ سا ہوتا تھا کہ سورج ڈھلا بھی ہے یا نہیں ۔ 1۔نماز کے اوقات کی معرفت اوراس کا وقت ہوجانا صحت نماز کی اہم شرطوں میں سے ہے۔اور اس سلسلے میں امام موذن ہی زمہ دار ہیں۔کسی ایک فرد کے شبے کا کوئی اعتبار نہیں۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو شبہ ظاہر کیا ہے۔ وہ حقیقت میں شبہ ہی ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز کبھی بھی زوال سے قبل نہیں پڑھی۔اس لئے مقتدیوں کو اپنے امام پراعتماد کرنا چاہیے۔2۔اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریمﷺ سورج ڈھلتے ہی اول وقت میں نماز پڑھا کرتے تھے۔اور سفر میں بھی اسی کا اہمتام فرماتے تھے۔