Book - حدیث 1203

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ صحیح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ، فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا: يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ<.

ترجمہ Book - حدیث 1203

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: سفر میں نماز کے لیے اذان کہنا سیدنا عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ” تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ( خوش ہوتا ) ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر ( اکیلا ہوتے ہوئے ) نماز کے لیے اذان کہتا اور نماز پڑھتا ہے ۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے ، دیکھو میرے اس بندے کو جو نماز کے لیے اذان اور اقامت کہتا ہے ( اور ) مجھ ہی سے ڈرتا ہے ۔ میں نے اپنے اس بندے کو بخش دیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا ہے ۔ “ 1۔اللہ عزو جل کاتعجب کرنا اسی طرح ہے۔جو اس کی شان جلالت کے لائق ہے۔یا پھر یعجب یرضیٰ کے معنی ہیں۔یعنی خوش ہوتا ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ اہل سنت والجماعت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں وارد تمام صفات الٰہیہ پر ایمان رکھتے اور ان کا اثبات کرتے ہیں۔کسی قسم کی تشبیہ تمثیل تاویل یا تعطیل کے قائل نہیں ہیں۔2۔اما م ابو دائود نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اکیلا چرواہا اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے تو مسافر کے لئے بھی اذان واقامت کہنی مستحب ہے۔