Book - حدیث 1201

كِتَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ بَابُ مَتَى يَقْصُرُ الْمُسَافِرُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ -أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ -شَكَّ شُعْبَةُ- يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

ترجمہ Book - حدیث 1201

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر کب قصر کرے ؟ یحیی بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک ؓ سے نماز قصر کرنے کے بارے میں سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا ” رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر جاتے تو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ “ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ۔ تین میل کی مسافت کو فرسخ (فارسی میں فرسنگ )کہتے ہیں۔اس طرح قصر کے لئے کم از کم مسافت تو میل ہوئی۔تین میل کی بات چونکہ مشکوک ہے ۔اس لئے حجت نہیں اور تین فرسخ کی مسافت احتیاط ویقین پر مبنی ہے اس لئے سفر کی مسافت (اپنے شہر کی حد چھوڑ کر)کم از کم نو میل یعنی 22۔23۔کلو میٹر ہوگی۔