Book - حدیث 1155

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْجُلُوسِ لِلْخُطْبَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ السَّائِبِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ, قَالَ: >إِنَّا نَخْطُبُ, فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ<. قَالَ أَبو دَاود: هَذَا مُرْسَلٌ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ Book - حدیث 1155

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: خطبہ سننے کے بیٹھنا سیدنا عبداللہ بن سائب ؓ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں عید میں حاضر تھا ۔ آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ” ہم خطبہ دیتے ہیں تو جو پسند کرے بیٹھ جائے اور جو جانا چاہے چلا جائے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ( مرفوع صحیح نہیں ، بلکہ ) مرسل ہے اور عطاء نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا ہے ۔ دوسرے محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح یا حسن ہے۔اس سے عید کے خطبے کے وجوب کی نفی ہوتی ہے۔تاہم ا س کے سنت ہونے میں کوئی شک نہیں۔اس لئے نبی کریم ﷺ نے عید کے اجتماع میں ان عورتوں کو بھی شریک ہونے کی تاکید کی ہے۔ جو ایام حیض میں ہوں۔اور نماز کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں۔اس لئے خطبہ عید کے بھی سننے کا اہتمام ہونا چاہیے۔اس سے تساہل واعراض سنت سے تساہل واعراض ہے جو کسی مسلمان کے لئے زیبا نہیں۔