Book - حدیث 1140

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حديث، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّةَ! أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ, وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ! فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:ُ >مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ, فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ, فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ, وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ<.

ترجمہ Book - حدیث 1140

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: عید کے روز خطبہ سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے کہا کہ مروان نے عید کے روز منبر نکلوایا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے ۔ عید کے روز منبر نکلوایا ہے جب کہ اس دن یہ نہ نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی ہے ۔ سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے پوچھا ، یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ فلاں بن فلاں ہے ۔ انہوں نے کہا : اس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے آپ ﷺ فر رہے تھے ” ( تم میں سے ) جو کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے دور کر سکتا ہو تو ہاتھ سے دور کرے ۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے یہ کام کرے ، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے ۔ اور یہ کمزور ترین ایمان ہے ۔ “ 1۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی مروان کو عیدسے پہلے خطبہ دینے سے منع کیا تھا۔(صحیح بخاری حدیث 956)اور اس روایت میں انکار کرنے والے کا نام عمار بن رویبہ یا ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔(عون المعبود)صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کی مخالفت از حد گراں گزرتی تھی۔3۔ دل سے بُرا جانے کا مفہوم یہ ہے کہ عزم رکھے۔کہ جب بھی موقع ملا اس بُرائی کو ختم کرکے رہوں گا۔