Book - حدیث 1136

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَيُونُسَ وَحَبِيبٍ وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ، قِيلَ: فَالْحُيَّضُ؟ قَالَ: لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ, كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: >تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا<.

ترجمہ Book - حدیث 1136

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: عورتوں کا عید کے لیے جانا سیدنا محمد بن سیرین ، سیدہ ام عطیہ ؓا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ پردے میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو بھی عید کے دن ساتھ لے جائیں ۔ پوچھا گیا جو ایام میں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ “ ایک عورت کہنے لگی ، اے اللہ کے رسول ، اگر کسی کے پاس ( پردے کے لیے ) چادر نہ ہو تو وہ کیسے کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کی سہیلی اسے اپنی چادر کا ایک حصہ اوڑھا دے ۔ “ 1۔عید کے دنوں میں عورتوں کا عید گاہ میں جانا مستحب ہے۔ مگر پردے میں خوشبو اورآواز دارزیور کے بغیر2۔ دعوۃ المسلمین میں اجتماعی دعا کاثبوت ہے۔مگ مروجہ طریقے سے نہیں3۔دعا کےلئے طہارت ضروری نہیں اس کے بغیر بھی دعا کرنا جائز ہے۔