Book - حدیث 1125

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي الْجُمُعَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى}[أول سورة الأعلى]، وَ{هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}[أول سورة الغاشية].

ترجمہ Book - حدیث 1125

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: نماز جمعہ میں قرآت سیدنا سمرہ بن جندب ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور«هل أتاك حديث الغاشية» پڑھا کرتے تھے ۔ نماز میں قرآن کریم میں سے کہیں سے پڑھ لیا جائے۔تو نماز بلاشبہ صحیح اور درست ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی اختیار کردہ قراءت کو معمول بنانا نبی ﷺ سے اور آپﷺ کی سنت سے محبت کی علامت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر مذید کا باعث ہے۔اور اس میں جو لذت اور شرف ہے وہ اصحاب الحدیث ہی کا نصیبہ ہے۔کثرا للہ سوادھم-