Book - حدیث 1118

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صحیح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ -صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >اجْلِسْ, فَقَدْ آذَيْتَ<.

ترجمہ Book - حدیث 1118

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: جمعہ کے روز ( اثنائے خطبہ میں ) لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے ابوالزاہریہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ( بار ) جمعہ کے دن ہم سیدنا عبداللہ بن بسر ؓ صحابی رسول ﷺ کے ساتھ تھے ۔ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا ‘ تو سیدنا عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ جمعہ کے روز ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جب کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے ‘ تو نبی کریم ﷺ نے اس سے کہا : ” بیٹھ جاؤ تم نے اذیت دی ۔ “ 1۔جمعہ میں دیر سے آنا اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے جگہ لینے کی کوشش کرنا انتہائی مکروہ کام ہے۔مسلمان کا اکرام واجب ہے۔اور اسے ایزا دینا حرام ہے۔2۔ہاںاگر لوگ جہالت کی وجہ سے اگلی صفیں چھوڑ کر پیچھے بیٹھ جایئں تو ایسے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا جائز ہوگا۔کیونکہ انہوں نے از خوداپنی حرمت پامال کی پیچھے بیٹھے اوراگلی صفیں پوری نہیں کیں۔3۔البتہ خطیب امام کو شرعی ضرورت کے تحت اس عمل کی رخصت ہے۔ایسے ہی جو بے وضو ہوجائے تو باہر جانا اس کے لئے ضروری ہوجاتا ہے۔مگر پھر بھی ادب واکرام سے گزرے۔