Book - حدیث 1109

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الْخُطْبَةَ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا, عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ، يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ، فَأَخَذَهُمَا، فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: >صَدَقَ اللَّهُ: {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ}[التغابن: 15], رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ<. ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ.

ترجمہ Book - حدیث 1109

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: امام کسی عارضے کے باعث خطبے کا تسلسل توڑ دے ، تو جائز ہے جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ( اس اثناء میں ) سیدنا حسن اور سیدنا حسین ؓ سرخ قمیصیں پہنے ہوئے آئے ۔ وہ گرتے تھے اور اٹھتے تھے ۔ تو آپ ﷺ منبر سے اتر پڑے ‘ ان کو پکڑا اور ان دونوں کو لے کر منبر پر تشریف لائے ‘ پھر فرمایا ” سچ فرمایا اللہ ذوالجلال نے «إن أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا ۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے پھر خطبہ دینا شروع کر دیا ۔ 1۔کسی معقول عارضے کی بنا پر اگرخطبے کا تسلسل ٹوٹ جائے یا توڑنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔2۔حضرا ت حسنین رسول اللہ ﷺ کے بہترین نواسے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے ان کو اپنی راحت جان (ريحافتاي)فرمایا۔اور جوانان جنت کے سردار ہونے کی بشارت دی ہے۔ان کے دل نواز تذکرے سے ہم اہل السنۃ والجماعۃ اصحاب الحدیث کے چہرے کھل اٹھتے۔سینے ٹھنڈے ہوتے۔آنکھیں ادب میں جھک جاتیں۔ اور زبانیں بے ساختہ (رضي الله تعالي عنهم وارضاهم ) پکارنے لگ جاتی ہیں۔ بہت بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو ہمیں ان سے عدم محبت کا طعنہ دیتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم محبت کے نام پر انھیں صفات الہٰیہ سے متصف نہیں کرتے کہ انھیں عالم الغیب۔مشکل کشا۔فریاد رس کہنے لگیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں افراط وتفریط کے شر سے محفوظ رکھے۔اور آخرت میں ان مقبولان الہٰہی اور محبوبان رسول ﷺ کی رفاقت سے سرفراز فرمائے۔آمین