Book - حدیث 1104

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَأَى عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ، وَهُوَ يَدْعُو فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ! قَالَ زَائِدَةُ قَالَ حُصَيْنٌ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا يَزِيدُ عَلَى هَذِهِ. -يَعْنِي: السَّبَّابَةَ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ-.

ترجمہ Book - حدیث 1104

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: ( دوران خطبہ ) منبر پر ہاتھ اٹھانا جناب حصین بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے روز ( اثنائے خطبہ میں ہاتھ اٹھا کر ) دعا کر رہا تھا ۔ ( ہاتھ ہلا رہا تھا ) تو عمارہ نے کہا : اللہ ان دونوں ہاتھوں کو رسوا کرے ، زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا : مجھے عمارہ نے بیان کیا ۔ تحقیق میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ اس سے زیادہ نہیں کرتے تھے ۔ یعنی صرف شہادت کی انگلی ( اٹھانے پہ اکتفا کرتے تھے ) جو انگوٹھے سے ملی ہوتی ہے ۔ خطیب کا دوران خطبہ میں اپنے ہاتھ ہلاہلا کر لوگوں سےخطاب کر نا خلاف سنت اور خلاف ادب جمعہ ہے۔صرف انگشت شہادت سےاشارہ ثابت ہے۔رہا یہ استدلال کہ اثنائے خطبہ ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا ممنوع ہے اگرچہ بعض رواۃ اس طرف گئے ہیں ۔مگر یہ استدلال مرجوح ہے۔کیونکہ نبی کریمﷺ سے ثابت ہے۔کہ آپﷺ نے استسقاء کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی تھی۔