Book - حدیث 1095

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْخُطْبَةِ قَائِمًا صحیح حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

ترجمہ Book - حدیث 1095

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: کھٹرے ہو کر خطبہ دینا سیدنا جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے پھر مختصر سا بیٹھ جاتے اور اس دوران میں کوئی گفتگو نہ کرتے تھے اور حدیث بیان کی ۔ 1۔خطبے کی جملہ احادیث سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ اس عمل میں مقصود مطلوب سامعین کو وعظ وتذکیر ہے۔اس لئے اگر سامعین عجمی ہوں عربی نہ سمجھتے ہوں۔تو انھیں ان کی زبان میں وعظ کیا جائے۔اس پریہ اعتراض نہ کیاجائے کہ پھر نو نماز میں بھی ترجمہ ہونا چاہیے۔کیونکہ خطبہ عبارت کےساتھ ساتھ وعظ ونصیحت بھی ہے۔جبکہ نماز خالص عبادت ہے۔ اس میں ذکر اور قرآن کی تلاوت متعین ہے۔ذکر اور تذکیر میں فرق ہے۔جیسے کہ قرآن کا ترجمہ قرآن نہیں ہے۔وہ محض ترجمانی ہے۔اس لئے نماز کو خطبے پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ عجوبہ یہ ہے کہ ان حضرات نے نماز تو ۔۔۔ایک روایت کے مطابق۔۔۔عجمی زبان میں جائز کردی ہے۔مگر خطبے کےلئے یہ گنجائش نہ نکال سکے۔2۔اصحاب الحدیث کے خطبات جمعہ وعیدین بحمد اللہ سنت کے عین مطابق نبوی خطبات کے عربی الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی آیات اور اکثر احادیث بھی عربی میں پڑھی جاتی ہیں۔اور ساتھ ساتھ سامعین کی زبان میں معانی ومفاہیم بیان کیے جاتے ہیں۔