Book - حدیث 1092

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْجُلُوسِ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ، حَتَّى يَفْرَغَ -أُرَاهُ قَالَ: الْمُؤَذِّنُ-، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ.

ترجمہ Book - حدیث 1092

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: منبر پر آنے کے بعد بیٹھ جانا نافع ، سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ جب منبر پر تشریف لاتے تو بیٹھ جاتے ، حتیٰ کہ مؤذن اذان سے فارغ ہو جاتا ۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے ، پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے ، پھر کھڑے ہوتے اور ( دوسرا ) خطبہ دیتے ۔ 1۔جمعہ میں منبر پرکھڑے ہوکر خطبہ دینا مستحب ہے۔بلاعذرخطبہ بیٹھ کر دینا ناجائز ہے۔دونوں خطبوں کے درمیان آپ ﷺ کا بیٹھنا مختصر سا ہوتا تھا۔2۔خطبے عددی اعتبار سے دو ہیں تین نہیں۔مسنون خطبوں سے پہلے تقریر یا بیان وغیرہ اس عدد کو بڑھا دیتا ہے۔اس لئے جائز نہیں۔یہ سنت رسول ﷺسے انحراف ہے۔ جب کہ ضرورت سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کی ہے۔