Book - حدیث 1073

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ إِذَا وَافَقَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عِيدٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: >قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ, أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ<. قَالَ عُمَرُ: عَنْ شُعْبَةَ.

ترجمہ Book - حدیث 1073

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: عید اور جمعہ اکٹھے آ جائیں تو ؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا.ّتمہارےاس دن میں دو عیدیں جمع ہو گئی‘توجوچاہئے اس کے لیےیہ(نماز عید)جمعہ کہ بدلے کافی ہے اور ہم جمعہ پڑھیں گے-‘‘عمر بن حفص کی سند میں عنعنہ ہے-(یعنی اس نے’’عن شعبہ‘‘کہا ہے) یہ روایت شیخ البانی کے نزدیک صحیح ہے۔حدیث 1070 بھی ا س کے ہم معنی ہے۔ان احادیث کی رو سے جمعہ پڑھنا عظیمت ہے۔اور چھوڑنا رخصت اس لئے دور دراز سے آنے والے اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔