Book - حدیث 1067

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ بَابُ الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ صحیح حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قَال:َ >الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ<. قَالَ أَبو دَاود: طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا.

ترجمہ Book - حدیث 1067

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل باب: غلام اور عورت کے لیے جمعہ سیدنا طارق بن شہاب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ لازماً فرض ہے ‘ سوائے چار قسم کے لوگوں کے ۔ غلام مملوک ، عورت ، بچہ اور مریض ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ طارق بن شہاب نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے مگر آپ سے کچھ سنا نہیں ہے ۔ 1۔مستدرک حاکم میں یہ حدیث طارق بن شہاب بواسطہ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ کئی ایک محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے۔دیکھئے(نیل الاوطار 258/3)2۔یہ حدیث مطلق اورعام ہے۔اور اس بات پر دلالت کرتی ہے۔کہ بستیوں وغیرہ میں بھی جمعہ پڑھنا ضروری ہے۔نیز قرآن اور حدیث میں کوئی ایسی صحیح دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ بستیوں میں جمعہ پڑھنا درست نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا قول مردود اور قرآن کے منافی اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے خلاف ہے۔3۔قران مقدس کا عموم بھی اسی بات کی تایئد کرتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ)(الجمعۃ ۔9) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا (جمعوا حيث كنتم) تم جہاں کہیں بھی ہو جمعہ پڑھا کرو (مصنف ابن ابی شیبہ حدیث 5068)