Book - حدیث 1029

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ مَنْ قَالَ يُتِمُّ عَلَى أَكْبَرِ ظَنِّهِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ ح، وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ! فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ, فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ, إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ، أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ<. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانَ. قَالَ أَبو دَاود: وقَالَ مَعْمَرٌ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ: عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ. وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ.

ترجمہ Book - حدیث 1029

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: ان حضرات کے دلائل جو کہتے ہیں کہ ظن غالب پر بنا کرے سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے معلوم نہ رہے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم ، تو اسے چاہیئے کہ جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو سجدے کر لے ۔ اور جب شیطان اس کے پاس آئے اور کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو اسے چاہیئے کہ کہے تو نے جھوٹ کہا ہے ، الا یہ کہ ناک سے بو محسوس کرے یا کان کے آواز سنے ۔ “ اور یہ لفظ ابان کی روایت کے ہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ معمر اور علی بن مبارک نے ( راوی کا نام ) عیاض بن ہلال کہا ہے ، جبکہ اوزاعی ، عیاض بن ابی زہیر کہتے ہیں ۔ شیطان کا کام اللہ کے بندوں ہی کو پریشان کرنا ہے۔لہذا نمازی کو اپنا وہم دور کرنے کےلئے سوچنا چاہیے اور جو یقین ہو اس پر بنا کرے۔