کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 308
حرفِ آخر
اپنے رب علیم حکیم کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، کہ محض ان کی توفیق سے [زنا کی سنگینی اور اس کے بُرے اثرات] کے بارے میں یہ صفحات ترتیب پائے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ عَدَدَ مَا خَلَقَ وَمِلْأَ مَا خَلَقَ، وَعَدَدَ مَا فِيْ الْأَرْضِ وَالسَّمَائِ، وَمِلْأَمَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَائِ، وَعَدَدَ مَا أَحْصٰی کِتَابُہُ، وَعَدَدَ کُلِّ شيْئٍ، وَمِلْئَ کُلِّ شَيئٍ۔[1]
اب انہی سے ان میں موجود کوتاہی، خلل، نقص کی معافی، انھیں مفید و نافع بنانے اور شرفِ قبولیت عطا فرمانے کی عاجزانہ التجا ہے۔ إِنَّہٗ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔
ا: خلاصہ کتاب:
۱: زنا کے متعلق ادیان سماویہ کا موقف:
تینوں آسمانی ادیان: یہودیت، عیسائیت اور اسلام زنا کی حرمت و قباحت پر متفق ہیں۔
ا: یہودیت کا موقف:
یہودیوں کی کتاب مقدس تورات کے مطابق زنا بہت بڑا جرم اور تباہ کن بدی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اس سے دور رہنے کا عہد لیا اور تفصیلی طور پر اس سے منع فرمایا۔ اسے بدکاروں اور زمین کو نجس کرنے والا قرار دیا، نیز اس بات کی خبر دی، کہ سابقہ امتیں اس کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے زنا کرنے
[1] "We're Number One!" p.126.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"A recent study finds that 21 percent of American women say they have been raped since age 14. Converted to an annual rate, this figure would be more than ten times as high as the reported rate."
[2] (Crime In the United States) [۱۹۷۷ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جرائم] یہ رپورٹ امریکی وزارتِ عدل کی طرف سے ۸ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو شائع ہوئی۔