کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 307
ج: صرف ایک لڑکی کی عصمت دری زنا کی سنگینی پر دلالت کرنے کے لیے بہت کافی ہے، لیکن اس سے تو اصحاب دل ہی عبرت حاصل کرتے ہیں:
{اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ }[1]
[یقینا اس میں اس شخص کے لیے ضرور نصیحت ہے، جس کا دل ہو یا کان لگا کر سنے اور اس کا دل حاضر ہو۔]
ایک سال میں ۶۰۰،۲۵،۵ منٹ اور ۰۰۰،۳۶،۱۵،۳ سیکنڈ بنتے تھے۔ حساب کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر ۱۵۲ سیکنڈ یعنی ۲ منٹ ۳۲سیکنڈ میں ایک لڑکی یا خاتون اغوا ہوتی ہے۔[2]
۱۹۷۸ء کے اعدادو شمار کے مطابق ہر آٹھ منٹ میں ایک خاتون یا لڑکی اغوا ہوتی تھی۔ ۳۲ سال کی مدت میں اغوا کی وارداتوں میں ۳۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ معلوم نہیں آئندہ ۳۲ سالوں کے بعد صورت حال کیا ہوگی؟ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ؟[3]
[4]
گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں زنا عام ہو جائے تو اس کی وجہ سے بہت زیادہ جرائم رونما ہوتے ہیں۔
[1] "The Day America Told The Truth" p.7.
اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"Date rape is a second important and largely unreported epidemic."
[2] "The Day America Told The Truth" p.129.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"According to Dr.David Elkind, author of "Hurried Child" only 5 percent of the victims of date-rape ever report the offence.
This estimate find corroboration in a sociological study conducted on University of Massachusetts undergraduate coeds, which found that only 3 percent of date-rape victims report the attacks."