کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 305
انھوں نے یہ بھی قلم بند کیا ہے:
’’[جاننے والوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ جنسی تشدد] اپنی سنگینی اور غیر رپورٹ کردہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی دوسرے نمبر پر وبا ہے۔‘‘[1]
اغوا کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیمز پیٹرسن اور پیٹرکم نے تحریر کیا ہے:
’’کتاب [Hurried Child] کے مؤلف ڈاکٹر ڈیوڈ الکنڈ [Dr. David Elkind] کے بقول [جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین] میں سے صرف پانچ فی صد اس جرم کی رپورٹ کرتی ہیں۔
اس اندازہ کی تصدیق یونیورسٹی آف ماساچوسیٹس [University of Massachusetts] کی بی۔اے سے کم مرحلہ کی مخلوطی طالبات کے حوالے سے کیے گئے عمرانیاتی سروے سے بھی ہوتی ہے، جس میں اس بات کا انکشاف ہوا، کہ [جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکیوں] میں سے صرف تین فیصد اس غارت گری کی رپورٹ کرتی ہیں۔‘‘[2]
[1] "The Day America Told The Truth" p.125.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"This is another of America's secrets, perhaps our saddest.
One in six adults across America were physically abused in childhood. Almost as many, one in seven, confess that they were victims of sexual abuse as children. Four in ten Americans know someone who was abused as a child. And bear in mind that most of the people abused as children tell no one.
The great majority of those who were sexually abused (three-fourths) are women."
[2] "The Day America Told The Truth" p.127.
اقتباس کے الفاظ یہ ہیں:
"Some of us believe that it is the stuff of talk shows, not everyday reality.
But the hard fact is that one in every six Americans was seriously abused as a child.
This unfortunately is an American reality."