کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 297
ہیں۔ وہ سوچ یہ ہے، کہ بلاشبہ عمدہ زندگی کا راز بچوں کے حمل، ان کی پرورش اور (میدانِ عمل میں حصہ لینے کی خاطر) انھیں (تیار کرکے) روانہ کرنے میں ہے، تاکہ وہ کنبے اور امت کے استمرار و بقا میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘[1]
۔ج۔
اہل مشرق کے لیے پُرفریب مغربی خیر خواہی اور اس کی حقیقت
شاید کوئی شخص کہے، کہ کثرتِ زنا کے سبب شرحِ پیدائش میں کمی ہمارے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ اقتصادی طور پر مفید ہے۔
یہ تصور صحیح نہیں۔ مغرب کے لوگ اہلِ مشرق کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے سامنے یہ تصور پیش کرتے ہیں، کہ اس نظریہ کو قبول کرنے کے بعد ان پر ہُن برسنا شروع ہوجائے گا۔
اہلِ بصیرت سے ان کے پیش کردہ موقف میں موجود مکر و فریب مخفی نہیں۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے، کہ وہ ہمیں تو ہمیشہ شرحِ پیدائش میں کمی کی نصیحت کرتے رہتے ہیں اور اپنے لوگوں کو ہمیشہ شرحِ پیدائش میں اضافے کی ترغیب دیتے ہیں۔ بچے پیدا کرنے والوں کی الاؤنسز دینے اور ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
[1] "The Death of the West" p.21.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"With Japan's elementary/schools in 2000 taking the smallest class in recorded history, Tokyo has raised the child allowance to $2,400 a year per child for six years. Some conservatives want to multiply that tenfold."
[2] "The Death of the West" p.228.
اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"The west is the most advanced civilization in history and America the most advanced nation---- first in economics, science technology and military power. No superpower rival exists. Europe, Japan and America control two-thirds of the world's wealth, income and productive capacity.
But America and the West face four clear and present dangers.
The first is a dying population."