کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 294
نصف صدی پہلے رونما ہوگی۔‘‘[1] ا: پیٹرک جے۔ بوکینن جاپان کی غیر معمولی اقتصادی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’لیکن جاپان کے لیے کچھ ہوچکا ہے، اس نے بھی مرنا شروع کردیا ہے۔ اب جاپان میں بچوں کی اوسط شرح پیدائش ۱۹۵۰ء کے مقابلے میں آدھی ہے۔ توقع کی جارہی ہے، کہ اس کی آبادی ۱۲۷ ملین (۱۲ کروڑ ستر لاکھ) ہوکر اپنی بلندی پر پہنچ جائے گی، لیکن ۲۰۵۰ء میں یہ آبادی کم ہوکر ۱۰۴ (دس کروڑ چالیس لاکھ) رہ جائے گی۔‘‘[2] ب: جاپان کی آبادی میں کمی کوئی معمولی بات نہیں۔ اس مصیبت کی سنگینی کا تصور پیٹرک جے۔ بوکینن کے درجِ ذیل اقتباس سے کیجیے: ’’جاپانی پرائمری سکولوں میں ۲۰۰۰ء میں جب تاریخ کی سب سے کم
[1] "The Death of the West" p.18 اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "If the present tendency continues, there will be a threat to the survival of the nation." [2] The Death of the West" p.18. اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "Mr. Chamie projected Russia's population, at present birth rates with zero immigration, out to the century's end, and came up with fewer than eighty million Russians in 2100. [3] "The Death of the West" p.18.