کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 293
ا: متعدد اخباروں میں کام والے پال کریج رابرٹس [Paul Craig Roberts] لکھتے ہیں: ’’آبادی کے ماہرین کی رائے کے مطابق اس صدی کے آخر تک انگریزی قوم اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی، کیونکہ انگریز اتنے بچوں کو جنم نہیں دے رہے، جو ان کی تعداد برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوں۔‘‘[1] ب: اخبار [دی لندن آبزرور] [The London Observer] کی رائے میں ’’تاریخ میں ایسا حادثہ پہلی دفعہ ہوگا، کہ کسی ملک کے اکثریت والے اصلی باشندے لڑائی، قحط سالی یا بیماری کے بغیر، بخوشی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں۔‘‘[2] پیٹرک جے۔ بوکینن کا تبصرہ: ’’(اخبار) [دی آبزرور] [The Observer] کی یہ رائے درست نہیں۔ اس میں پہل کا شرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ حاصل کرے گا۔ صدر کلنٹن نے پیش گوئی کی ہے، کہ امریکہ میں یہ صورتِ حال ۲۰۵۰ء یعنی برطانیہ عظمیٰ سے
[1] "The Death of the West" p.17 اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "In 1950, Spain had three times as many people as Morocco across the strait of Gibraltar. By 2050, Morocco's population will be 50 percent larger. If one hundred Spanish young people marry today, they can expect to have fifty-eight children, thirty three grandchildren, but only nineteen great-grand-children." [2] "The Death of the West" p.17-18 اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں: Russia's 147 million people will fall to 114 million by 2050. One estimate had it headed to 123 million by 2015. [3] "The Death of the West" p.18 اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "If you believe the forecasts made by serious people who have devoted their whole lives to studying this question", warns President Putin, "in 15 years time there will be 22 million fewer Russians. Just think about the figure––it's a seventh of [Russia's] population."