کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 292
٭ انھوں نے مزید کہا:
’’اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی، تو امت کی بقا خطرے میں ہوگی۔‘‘[1]
٭ ’’سید شامی کی پیشگوئی کے مطابق موجودہ شرحِ پیدائش برقرار رہنے اور باہر سے ہجرت کرکے نہ آنے والوں کی صورت میں ۲۱۰۰ء میں روسی آبادی ۸۰ ملین سے بھی کم ہوجائے گی۔‘‘[2]
٭ روسی آبادی میں شدید کمی کے پیشِ نظر ریاست دما (Duma) کے ڈپٹی سپیکر ولادیمیر زیرنو فسکی[Vladimir Zhirinovsky] نے آبادی میں اضافہ کے لیے پارلیمنٹ میں درج ذیل تجاویز پیش کیں:
۱: ہر روسی مرد کو پانچ عورتوں سے شادی کی اجازت دی جائے۔
۲: اسقاطِ حمل کو دس سال کے لیے ممنوع قرار دیا جائے۔
۳: روسی خواتین کو بیرونِ ملک سفر سے روک دیا جائے۔[3]
[1] "The Death of the West" p.12.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"In 1960, people of European ancestry were one-fourth of the world's population: in 2000 they were one-sixth, in 2050, they will be one-tenth. These are the statistics of a vanishing race."
[2] "The Death of the West" p.12
اقتباس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
In 2000, the total population of Europe from Iceland to Russia, was 728 million. At present birth rates, however, without new immigration, her population will crash to 600 million by 2050 … The 2000 Revision Highlights released by the authoritative UN Population Division on February 28,2001.
Another study has Europe' population plummeting to 556 million by midcentury.