کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 291
باشندوں سے تین گنا تھی۔ ۲۰۵۰ء آنے پر مراکشی آبادی سپین کی آبادی سے ۵۰% زیادہ ہوگی۔ اگر آج ۱۰۰ سپینی جوان جوڑے شادی کریں، تو ان کے ہاں ۵۸ بچے اور ۳۳ پوتے ہونے کی توقع کی جاتی ہے، لیکن ان کے پڑپوتوں کی تعداد صرف ۱۹ ہوگی۔‘‘[1] ٭ ۲۰۵۰ء تک روس کی آبادی ۱۴۷ ملین سے گر کر ۱۱۴ ملین رہ جائے گی۔ ایک اور اندازے کے مطابق ۲۰۱۵ء میں یہ تعداد ۱۲۳ ملین ہوگی۔[2] ٭ روسی صدر پیوٹن نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے: ’’جن لوگوں نے اس بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے اپنی زندگیاں کھپادی ہیں، اگر آپ کو اُن کی پیش گوئیوں پر یقین ہے، تو آئندہ پندرہ سالوں میں روسی آبادی ۲۲ ملین کم ہوجائے گی۔ کمی کی اس تعداد میں خوب غور کیجیے۔ یہ (تعداد) روسی آبادی کا ساتواں حصہ ہے۔‘‘[3]
[1] "The Death of the West" p.9. اقتباس حسبِ ذیل ہیں: The West is dying. Its nations have ceased to reproduce, and their populations have stopped growing and begun to shrink....... Today, in seventeen European countries, there are more burials than births, more coffins than cradles.