کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 290
ہوجائیں گے۔ یہ ایک فنا ہونے والی جنس کے اعداد و شمار ہیں۔‘‘[1]
۲۰۰۰ء میں آئس لینڈ سے روس تک یورپ کی آبادی ۷۲۸ ملین تھی۔ شرحِ پیدائش کی موجودہ صورتِ حال برقرار رہنے اور (دوسرے ملکوں سے) نئے ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کے بغیر ۲۰۵۰ء میں اس کی آبادی کم ہوکر ۶۰۰ ملین ہوجائے گی۔ یہ بات اقوام متحدہ کے شعبہ آبادی کے بااختیار لوگوں کی ۲۸ فروری ۲۰۰۱ء کی شائع کردہ رپورٹ میں ذکر کی گئی ہے۔
ایک اور تحقیق کے مطابق (اکیسویں) صدی کے نصف تک یورپ کی آبادی کم ہوکر ۵۵۶ ملین رہ جائے گی۔[2]
’’۱۹۵۰ء میں سپین کی آبادی جبل طارق کے تنگنائے میں مقیم مراکشی
[1] مقدمہ کتاب [Population Decline in Europe] صفحات-vii viii باختصار۔
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
Within the last ten years, fertility rates in many European countries have fallen sharply. In some of them, the fall has gone so far that the number of deaths has begun to exceed the number of births and actual decreases in population have been recorded. In Britain, for instance, the annual number of births has fallen by a figure of the order of thirty percent within the last decade.
[2] ۱۸۷۶ء کے متعلقہ معلومات کتاب [حرکۃ تحدید النسل] ص۴۱ سے اور ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۵ء کے متعلقہ معلومات کتاب (Population Decline in Europe) ص ۷۳ سے نقل کی گئی ہیں۔