کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 287
II: ’’یہ بات واضح ہوچکی ہے، کہ منع حمل اور اسقاطِ حمل سے نفع حاصل کرنے والے …جیسا کہ پوپ نے پیش گوئی کی تھی… وہ خود غرض مرد ہی ہیں، جو خواتین کو استعمال کرکے کلینکس کے کاغذی رومال کی طرح دور پھینک دیتے ہیں۔‘‘[1]
۴: یو۔ ایس سینسس بیوریو [U.S. Census Bureau] کی رپورٹ کے مطابق [امریکہ میں ۲۰۰۷ء میں اسقاطِ حمل کے حالات کی تعداد ۰۰۰،۱۰،۱۲ تھی۔][2]
اور [۲۰۰۸ء میں ان کی تعداد ۵۰۰، ۱۱،۱۲ تھی۔][3]
۔ب۔
مغربی دنیا میں آبادی میں کمی
۱: مغربی ممالک میں آبادی کے انحطاط کے متعلق فیوجن گریبینک (Eugene Grebenik) لکھتے ہیں:
گزشتہ دس سالوں میں متعدد یورپی ممالک میں شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بعض ملکوں میں یہ کمی اس حد تک ہوئی ہے، کہ اموات کی شرح، پیدائش کی شرح سے زیادہ ہوگئی ہے اور آبادی کی تعداد میں حقیقی کمی نوٹ کی گئی ہے…
[1] "The Death of the West" p.18.
اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"Two of every three pregnancies in Russia are terminated before birth. Russian women average 2.5 to 4 abortions each and Russian's death rate is now 70 percent higher than the birthrate."
[2] المرجع السابق ص ۲۶۔
اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"Historians may one day call "the pill" the suicide tablet of the West."