کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 284
نتیجہ یہ ہوتا ہے، کہ ابتدا میں تو اس امت کے افراد کی تعداد برقرار رہتی ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی، لیکن پھر اس میں انحطاط اور ہلاکت کا آغاز ہوجاتا ہے، حتیٰ کہ افرادی قلت کے باعث نوبت یہاں تک پہنچتی ہے، کہ وہ اپنی بنیادی اور لازمی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کرسکتی۔‘‘[1]
مغربی دنیا میں اسقاطِ حمل:
مغربی دنیا میں منع حمل کے لیے مختلف اسالیب و وسائل کی کثرت کا اندازہ کرنے کی غرض سے درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
۱: طبی خدمات کی ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ پروفیسر پورٹ نے اپنی تیار کردہ رپورٹ میں لکھا ہے:
’’دونوں عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے میں اسقاطِ حمل اور ولادت کے واقعات کی تعداد برابر تھی۔‘‘[2]
۲: کیترینن والا بریگ (Catterenine Valabrague) اس رپورٹ کے نقل کرنے کے بعد لکھتی ہیں:
’’معلوم ہوتا ہے، کہ فرانس کے تمام علاقوں میں (ولادت) روکنے کے بارے میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوئی، بلکہ پیرس میں تو اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد ولادتوں کی تعداد سے زیادہ تھی۔ اس صورتِ حال کا ایک ایسے ملک میں پیش آنا، جس کی اکثریت کیتھولک ہے، بہت عجیب و غریب اور اذیت ناک ہے۔‘‘[3]
[1] اس بارے میں تفصیل کے لیے کتاب ہذا کے صفحات۲۲۱۔ ۲۴۴ ملاحظہ فرمائیے۔
[2] اس سلسلے میں تفصیل کے لیے دیکھئے: اس کتاب کے صفحات۲۵۹۔ ۲۷۵ ملاحظہ فرمائیے۔
[3] "Population Decline In Europe" p.12.
اقتباس کے الفاظِ درج ذیل ہیں:
"However, the increase in illegitimate births does not seem to be sufficient to offset the effects of lower nuptiality on fertility."