کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 281
مبحث چہارم
بچوں کی شرحِ پیدائش میں کمی
تمہید:
آبادی کی تعداد اور اس میں اضافہ کسی قوم کی تعمیر و ترقی اور اس کی قائدانہ حیثیت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح امتوں اور ان کی تہذیبوں کی بربادی میں آبادی کے انحطاط کا حصہ بھی کچھ کم نہیں۔
اس سلسلے میں پیٹرک جے۔ بوکینن لکھتے ہیں:
’’جیسا کہ ایک طویل مدت تک افزائشِ نسل امتوں کے صحت مند ہونے کی علامت تھی، اسی طرح آبادی کی تعداد میں انحطاط زوال پذیر امتوں اور تہذیبوں کی نشانی بن چکا ہے۔‘‘[1]
کسی معاشرے میں زنا کا پھیلاؤ متعدد پہلوؤں سے آبادی میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ مغربی دنیا میں آبادی میں مسلسل کمی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اہلِ مغرب کا اہلِ مشرق اور خصوصاً عالَم اسلام کو آبادی میں کمی کا درس شوگر کوٹڈ (Sugar Coated) زہر ہے۔
[1] "Population Decline In Europe" p.11.
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"Accordingly, a number of features seem to indicate a challenge to the family as an institution, in at least several respects. If Sweden is the forerunner of similar changes, in other countries, as already seems to be true with regard to Denmark and Norway, the family might in any case cease to be the unique normal framework for procreation."