کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 280
{وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاہُمْ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ مَا بَطَنَ}[1]
[اور ماں باپ کے ساتھ خوب احسان کرو اور ناداری کے (اندیشے سے) اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، کیونکہ تمھیں اور انھیں ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا۔]
سید قطب اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: یہ کنبے کی آئندہ نسلوں کے ساتھ رابطہ کی اساس ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے) بیٹوں کو باپوں کے متعلق اور باپوں کو بیٹوں کے بارے میں نصیحت فرمائی۔ دورانِ نصیحت انھیں اس اصول اور قاعدے کی پاس داری کا حکم دیا، جس کی بنیاد پر کنبہ قائم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں بے حیائی کے ظاہری اور پوشیدہ کاموں سے روکا۔ یہ ممانعت سابقہ نصیحت سے کلی طور پر مرتبط ہے، کیونکہ ظاہری اور مخفی بے حیائیوں کی دلدل میں نہ خاندان کا قیام ممکن ہے اور نہ معاشرت کا۔ بے حیائی کے پھیلانے کو پسند کرنے والے ہی درحقیقت وہ لوگ ہیں، جو چاہتے ہیں، کہ خاندانی نظام کی چولیں ہل جائیں اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے۔[2]
[1] "The Death of The West" p.43.
اقتباس کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"As late as the 1950's, divorce was a scandal, "shacking up" was how "white trash" lived, abortion was an abomination and homosexuality the "love that dare not speak its name". Today half of all marriages end in divorce, "relationship" are what life is about, and "the love that dare not speak its name" will not shut up."
[2] یہ بات یو ایس سینسس بیوریو [U.S. Census Bureau] کی طرف سے ۲۰۱۲ء میں حسبِ ذیل عنوان والی رپورٹ میں ذکر کی گئی۔
[Table 132: People who got married and divorced in the past 12 months by state : 2009]