کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 279
تبصرہ:
طلاق کے واقعات شادیوں کی تعداد کے نصف سے زیادہ تھے۔
ہ: مغربی دنیا میں عائلی نظام کا مستقبل:
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں، کہ کیا ان حالات میں مغربی دنیا میں عائلی نظام باقی بھی رہے گا یا نہیں؟
اس سوال کا جواب مغربی مفکر پیری گلموٹ سے سنتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’بہت سے حقائق اس بات پر دلالت کناں ہیں، کہ ایک معاشرتی ادارے کی حیثیت سے کنبے کو کئی اطراف سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان تغیرات کے رونما ہونے میں اگرچہ سویڈن سب پر سبقت لے گیا ہے، لیکن دوسرے ممالک خصوصاً ڈنمارک اور ناروے میں نظر آنے والی صورتِ حال کے پیش نظر شاید کنبہ بچوں کی پیدائش کے لیے واحد قانونی دائرہ نہیں رہے گا۔‘‘[1]
و: کنبے کے قیام و بقا کے لیے ضرورتِ عفت کے متعلق قرآنی اشارہ:
جہاں جنسی انارکی کا غلبہ ہو، وہاں کنبہ کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟ قرآن کریم نے بہت پہلے سے یہ اشارہ دے دیا ہے، کہ فحاشی سے اجتناب کے بغیر کنبے کا قیام اور بقا ممکن نہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:
[1] "Population Decline in Europe" p.12.
[2] المرجع السابق ص ۴۵۔ اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"Although the trend varies in intensity, divorce is everywhere becoming more common and taking place at an earlier age."
[3] اخبار الشرق الاوسط نے اپنے شمارے ۵۵۵ جلد دوم میں لکھا ہے:
’’چوالیس سالہ امریکی گراہم انڈرسن نے بتیس سالہ اپنی دوست جینٹ ہیوز سے کل لاس اینجلس میں ۵ آدمیوں پر مشتمل ایک مختصر تقریب میں شادی کی۔ انڈرسن کی ہیوز سے یہ تیسری شادی تھی۔ ایک ماہ پہلے بھی اس نے طلاق دینے کے فوراً بعد اس سے شادی کرلی تھی۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ اس سے کل شادی کی، کیونکہ اسے محسوس ہوا، کہ وہ اس کے بغیر زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ اب گراہم نے وعدہ کیا ہے، کہ اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، وہ آئندہ طلاق نہیں دے گا۔‘‘
(مجریہ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۸۰ء بمطابق ۹ جمادی الثانی ۱۴۰۰ھ)
مغربی دنیا میں بسا اوقات شادی چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہتی۔ اخبار (الشرق الاوسط) ہی نے لکھا ہے:
’’وولف کے بعد شادی کی دنیا میں ایک امریکی تاجر آیا، جس کا نام ٹامس مانفیل تھا، جو کہ چند سال قبل ۱۱۶ سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے، کہ اس نے ایک مرتبہ اپنی دوست سے صرف آٹھ گھنٹے کے لیے شادی کی اور پھر اسی دن اسے طلاق دے دی۔‘‘ (مورخہ ۴ نومبر ۱۹۷۹ء)۔