کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 277
نام ملک ۱۹۵۱۔۱۹۵۵ء ۱۹۵۶۔۱۹۶۰ء ۱۹۶۱۔۱۹۶۵ء ۱۹۶۶۔۱۹۷۰ء بعد کے سالوں میں
سویڈن ۴۔۱۵ ۰۔۱۶ ۷۔۱۶ ۹۔۲۰ ۶۔۳۳
نمسا ۲۔۱۶ ۲۔۱۴ ۱۔۱۴ ۵۔۱۶ ۸۔۱۷
بلجیم ۴۔۶ ۵۔۶ ۵۔۷ ۲۔۹ ۴۔۷
فرانس ۱۔۱۰ ۶۔۹ ۹۔۹ ۴۔۱۱ ۱۶
نیدرلینڈز ۷۔۷ ۹۔۶ ۰۔۷ ۲۔۹ ۶۔۱۵
مغربی جرمنی –– ۰۔۱۲ ۶۔۱۲ ۷۔۱۴ ––
سویٹزرلینڈ ۵۔۱۲ ۴۔۱۲ ۶۔۱۲ ۹۔۱۳ ۹۔۱۷
یونان –– ۷۔۳ ۲۔۴ ۶۔۴ ۴۔۵ [1]
تبصرہ:
اس چارٹ پر پیری گلموٹ کا ہی تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’یورپین ممالک میں واقعات طلاق کی تعداد میں اختلاف کے باوجود مشترک بات یہ ہے، کہ ان کی تعداد اور ان کے شادی کے ابتدائی سالوں میں رونما ہونے میں، مسلسل اضافہ ہوا ہے۔‘‘[2]
اس بارے میں ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے، کہ ان ممالک میں شادی کے تھوڑی مدت بعد ہی طلاق کا معاملہ پیش آجاتا ہے۔[3]
[1] [The Day America Told The Truth] p.92.
اقتباس کے الفاظ یوں ہیں:
"Most divorced wives (54 percent) revealed that their husbands strayed –– but almost half (46 percent) of the husbands pointed a knowing finger at former wives. There are a lot of Strays out there across America."